سری نگر، 5 /مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جنوبی کشمیر کے ترال میں سیکورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان تقریبا 12گھنٹے تک جاری رہے انکاؤنٹر میں ایک نوجوان شہید ہو گیا جبکہ دو دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تصادم میں حزب المجاہدین کا رکن عاقب بھٹ عرف عاقب مولوی اور ایک دوسرا دہشت گرد سیف اللہ عرف اسامہ ہلاک ہو گیا ہے۔دعوی کیا جارہا ہے کہ عاقب گزشتہ تین سالوں سے اس علاقے میں سرگرم تھا جبکہ سیف اللہ عرف اسامہ پاکستانی دہشت گرد تھا اور جیش محمد کے لیے کام کرتا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس مہم کی قیادت کرنے والے پولیس کانسٹیبل منظور احمد نائک شہید ہو گئے،مہم کل شام سات بجے سے شروع ہو ئی تھی اور آج صبح ساڑھے 6 بجے تک جاری رہی۔انہوں نے بتایا کہ علاقے میں چھپے دہشت گرد بھٹ نے علی الصبا ح اپنے والد کو فون کرکے انہیں الوداع کہا،وہ مقامی باشندہ تھا اور اس کا آبائی مکان ترال کے ہائنا میں تھا۔سیکورٹی فورسز کو دو دہشت گردوں کے ایک بڑھئی کے مکان میں چھپے ہونے کی اطلاع ملی تھی، جس کے بعد پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے علاقے کو گھیر لیا۔سیکورٹی فورسز نے شام سات بجے دہشت گرد وں کو دیکھا اور اس کے بعد دونوں جانب سے فائرنک شروع ہوگئیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو فرارہونے میں مدد کرنے کے لیے مقامی لوگ سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے انسداد دہشت گردی کی مہم میں لگے جوانوں پر پتھراؤ کیا لیکن پولیس اور سیکورٹی فورسز نے صورتحال پر قابو پا لیا، لوگوں کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے علاقے میں سخت پابندی عائد کردی گئی ہیں، ان جھڑپوں کے دوران کچھ بدمعاشوں نے سی آر پی ایف کے ایک جوان کی رائفل چھین لی، اس کے علاوہ فوج کے میجر آر ریشی گولی لگنے سے زخمی ہو گئے ہیں، انہیں علاج کے لیے بیس اسپتا ل لے جایا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔